دو دنوں کا فیس بُک کی ٹاک سے بچھڑا ہوا
خود کو میں لگتا ہوں ہر ادراک سے بچھڑا ہوا

”دُر فِٹے منہ“ کہہ دیا اُس نے بھرے بازار میں
دے دیا پیغام برقی ڈاک سے بچھڑا ہوا

آج کی خاتون جامے میں سماتی ہی نہیں
آج کل فیشن ہے کچھ پوشاک سے بچھڑا ہوا

دل میں رہتا ہے سدا کنسرٹ تیری یاد کا
ٹھیک ہے میرا ذرا سا ٹھاک سے بچھڑا ہوا

ہو گیا ہے عشق تو لترول سے سیدھا مگر
حُسن تب سے ہےنگہِ بیباک سے بچھڑا ہوا

پارٹی در پارٹی لڑھکے ہے لوٹے کی طرح
کوئی لیڈر طرہء یچاک سے بچھڑا ہوا

اُس گلی میں مل گیا تھااک رقیبِ روسیاہ
سو یہ منہ ہے دُر فٹے منہ ناک سے بچھڑا ہوا

اپنے سپنوں میں تو ہے مصروف لمبی دوڑ میں
سو نے والا مارننگ کی واک سے بچھڑا ہوا

اپنے جامے میں سمانے کی نہیں ہے اہلیت
"کوزہء دنیا ہے اپنے چاک سے بچھڑا ہوا”

ایسے گانے پر بجز ”لاحول“ کیا کہتا کوئی
جس کا ہر سُر تھا صریحاً ”راک“ سے بچھڑا ہوا

میری دعوت پر نکالی اگلی پچھلی سب کسر
مدتوں سے یار تھا خوراک سے بچھڑا ہوا

Advertisements