کسی بھی غیر کے پیچھے پڑا ہے کب مرا بکرا
مجھ ہی پر سینگ تانے ہیں مرے سر ہی رہا بکرا

گلی میں سیر کو نکلے تو کوئی نہ سمجھ پایا
ہمیں پکڑا تھا بکرے نے یا ہم نے پکڑا تھا بکرا

زمانے بھر کے بکروں میں خرابی ہی نظر آئی
اگر ہیرا لگا کوئی تو بس اپنا لگا بکرا

مٹن کے نام پر یوں تو سگ و خر چرتے پھرتے ہیں
مگر عیدِ بقر پر مل ہی جاتا ہے کھرا بکرا

اِنہیں سے زندگی بھر عید ہے اِن کے مقدر میں
ہمیشہ لیڈروں نے ووٹروں کو ہی کہا بکرا

ہمیں سے لیتے آئے ہیں وہ سارا سال قربانی
مگر ہر عید پر سب کا رہا ہے دلربا بکرا

بھلاوہ عید کو بکرے سی عزت کیوں نہیں پاتا
غلط ہےکہ پئے بیگم ہے شوہر بھی نرا بکرا

ارے یہ ارتقا کی کس ڈگر پر آ گئے ہیں ہم
بہت سستا ہوا انساں بہت مہنگا ہوا بکرا

بڑے اخلاص سے بڑھ بڑھ کے ٹکریں ہم نے کھائی ہیں
"کسی منڈی میں دیکھا جب کوئی معصوم سا بکرا”

متانت تھی، یا غور و فکر تھا یا لن ترانی تھی
جگالی کر رہا تھا تو پروفیسر لگا بکرا

کہاں سے چلتا چلتا شہر کی منڈی میں پہنچا تھا
مگر پھر عید پر سیدھا فریزر میں گیا بکرا

بھلا مردانگی اتنی بھی کب مشکوک تھی اپنی
یونہی منے کی اماں کو نظر آتا رہا بکرا

ابھی بھی اس کی میں میں ختم ہونے میں نہیں آتی
زباں ملتی تو امریکہ کی طرح بولتا بکرا

بجا کہ شکل و صورت سے بڑا معصوم لگتا تھا
مگر بکری نظر آئی تو کیا کیا نہ کھلا بکرا

میاں مجنوں تو لیلیٰ بی کے پیچھے مرتے پھرتے ہیں
خدا کی راہ میں قربان ہوتا ہے سدا بکرا

نہ ہرگز بچ سکا گرچہ بہت کرتا رہا میں میں
چھری کے نیچے آیا تو ذبح ہو کر رہا بکرا

Advertisements