ثمر آور نہیں ہے دوستی کیا
اسے بھی وقت کی دیمک لگی کیا

دلیلِ زندگی کیوں دے رہے ہو!
مقدمے سے بھی ہونا ہے بری کیا

کچل کر خود کو آگے بڑھ رہے ہو
یہی رستہ بچا ہے آخری کیا

یہ سمجھایا نہیں جا سکتا تم کو
کنارِ آبجو ہے تشنگی کیا

سرِ راہے کوئی غرفہ نہیں تھا
صبا کا ہاتھ خوشبو تھامتی کیا

مسافت کے جنوں میں سُن نہ پایا
بتاتی رہ گئی تھی آگہی کیا

سخن میں بھی تھے سناٹے بلا کے
ہماری خامشی پھر بولتی کیا

بھنور سے بچ کے ساحل پر جو آتا
تو پھر کشتی مری نہ ڈوبتی کیا؟

رہن میں رکھ لیا ہے بادلوں نے
سحر ہے تعزیہ ء روشنی کیا

کسی کی اپنی مقناطیسیت تھی
بھلا ہم کیا ہماری عاشقی کیا

ظفر نظریں چراتا ہوں میں خود سے
دکھائے گی تماشہ بے بسی کیا

Advertisements