اپنے عمل سے وقت کو ایسا جواب دے
جس پر زمانہ انگلیاں دانتوں میں داب دے

شادابیوں کو زندگی کے کینوس میں لا
جھلساتے موسموں کو بھی رنگِ سحاب دے

اوروں کی سمت انگلی اٹھانا تو سہل ہے
اہلِ نظر کو اہلیتِ احتساب دے

کیوں ظلمتِ بسیط ہے ہر سمت ، کچھ تو کہہ!
کس خاک میں تھے کتنے ستارے حساب دے

آنکھوں میں ابتسام کی شمع جلا کے رکھ
مجھ کو بھی ایک میٹھی نظر کا ثواب دے

میرے تمام خواب بنے ہیں عذاب کیوں
زنبیلِ دل الٹ دے وفا کا حساب دے

کب تک رہے گی اس مین خزاؤں کی بیکلی
میرے لہو کے رنگ سے گلشن کو آب دے

پھر سے ہو مجھ کو جرمِ محبت کا حوصلہ
پھر سے مری کتاب کو تو انتساب دے

Advertisements