اُسے بھول جانا بجا سہی مجھے اس سے عار کہاں رہا
مگر اپنے آپ پہ اِس قدر کبھی اختیار کہاں رہا

غم تیرگی مجھے ڈس گیا،میں کرن کرن کو ترس گیا
یہ جو ماہتاب ہے ضو فگن، شبِ انتظار کہاں رہا

غمِ دل جو حد سے گزر چلے تو میں کس کے کاندھے پہ سر دھروں
تری یاد آئے تو کیا کروں، کوئی غمگسارکہاں رہا

نہ کسی کے دل میں جلے دیا ،نہ کسی کا غرفہء چشم وا
میں کروں گا کیا ترے شہر میں ، مرا انتظار کہاں رہا

کوئی بیکلی سی ابھی بھی ہے، کوئی تشنگی سی ابھی بھی ہے
وہ جو تیر آ کے لگا مجھے، وہ جگر کے پار کہاں رہا

میں بھی اپنی دنیا کا ہو گیا، غمِ روزگار میں کھو گیا
مجھے آ گیا ہے سکون تو وہ بھی بیقرار کہاں رہا

اُسے طعنہ دینے سے پیشتر میں یہ کیوں نہ خود سے بھی پوچھ لوں
مرے دل میں بھی تو بنا تھا یادوں کا اک مزار کہاں رہا

کسی ایک مشعل بدست کو بھی ملی نہ منزل تو کیا عجب
پئے رہرواں کوئی راستہ بھی تو سازگار کہاں رہا

Advertisements