داعیءعشق کو برباد نہ رکھا جائے
اہتمام ایسا مرے بعد نہ رکھا جائے

اپنی مٹی کی بھی خوشبو نہیں آتی اُس کو
آسمانوں پہ زمیں زاد نہ رکھا جائے

کاش اس بات کی توفیق ہمیں بھی ہوتی
جو ہمیں بھولیں اُنہیں یاد نہ رکھا جائے

اس زمانے کی تو تخلیق ہے بونوں کے لئے
سو یہاں پر قدِ شمشاد نہ رکھا جائے

یا تو بھرنے دیا جائے مجھے کردار میں رنگ
یا مجھے شاملِ روداد نہ رکھا جائے

ہر زمانے میں محبت کے تقاضے ہیں جدا
ہر دفعہ قصہء فرہاد نہ رکھا جائے

خود کو بس ایک ہی خوشبو میں بسانا اچھا
یونہی مجموعہءاضداد نہ رکھا جائے

اِس قدر بھی نہ اجاڑو کہ سرِ بزمِ وفا
مسکراہٹ کو بھی آباد نہ رکھا جائے

سارے جیون کو نشاں زد کئے جاتا ہے ظفر
آئینے کو میرا نقاد نہ رکھا جائے

Advertisements