”انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اُٹھا کے ہاتھ“
دیکھا جو مجھ کو تاڑمیں، جھاڑے گھما کے ہاتھ

وہ لکھ پتی بنا تو اِسی فن سے ہی بنا
کب پھیلنے سے باز رہیں گے گدا کے ہاتھ

رسی سے بھی دھلنے لگا سانپ کا ڈسا
ایسے لگے ہیں اس کو کسی آشنا کے ہاتھ

انگوٹھیوں کا کوئی پتہ لگ نہیں رہا
پچھتا رہے ہیں آپ سے اکثر ملا کے ہاتھ

اے کاش کوئی اس کو بھی چکر میں ڈال دے
معصوم بن گیا ہے جو ہم کو دکھا کے ہاتھ

طالع رہی ہیں بادِ صبا کی ہی تھپکیاں
تجھ کو پڑے نہیں ہیں ابھی مس صبا کے ہاتھ

اب اُس پہ آپ دانت جماتے ہیں کس لئے
جو کام ہم نے کر دئے اپنے لگا کے ہاتھ

وہ پیر اُس مرید کی بیوی کو لے اُڑا
ملتا تھا چشم و لب پہ وہ جس کے لگا کے ہاتھ

شاعر ہو فیل تن تو بجا ہے منافقت
نقاد چٹکیاں بھی بھرے تو بچا کے ہاتھ

بہتر ہے آپ ہی وہ کنارا کشی کرے
جھٹکے نہ ہم سے جائیں گے اُس بے وفا کے ہاتھ

اُترا بخارِ وصل تو ہم پر کھلا ظفر
بدقسمتی سے لگ گئے ہم اِک بلا کے ہاتھ

Advertisements