اگرچہ ہے نظر کے سامنے تصویرِ آزادی
مگر اِک خواب بن کر رہ گئی تعبیرِ آزادی

وڈیرے بھینس کو باندھے ہوئے ہیں اپنے کلّے سے
ہماری آپ کی خاطر کہاں ہے شیرِ آزادی

لگاتا جائے گا لوھے کے بھاؤ ریت کی اینٹیں
رہی لوھار کے ذمے اگر تعمیرِ آزادی

اثاثہ جاتِ ایٹم کی طرح سے معذرت خواہ ہیں
کما بیٹھے ہیں ہم کس ذعم میں توقیر آزادی

سیاست ہو صحافت ہو یا نوکر شاہی ہو رانجھے
بہت سے کیدؤں کی قید میں ہے ہیرِ آزادی

اسی کی منشا کی حد تک ہمارا اپنا ہلنا جلنا ہے
سو انکل سام سے پوچھا کریں تفسیرِ آزادی

کئے بیٹھے ہیں حقہ پانی بند اقوامِ مفلس کا
بنے بیٹھے ہیں جو دنیا میں داداگیرِ آزادی

دکھا دیں گے وہ اپنی توند سے کُرتے کو سرکا کر
وطن کے لیڈروں سے مانگئے تصویرِ آزادی

کبھی نہ دیکھتے ہم خواب، پکے راگ سُن لیتے
اگر ایسی ہی ملنی تھی ہمیں تعبیرِ آزادی

کچھ اس انداز سے ہم جشنِ آزادی مناتے ہیں
چھنکتی ہے ہمارے پاؤں میں زنجیرِ آزادی

لُہو کس کا جلا کرتا ہے ارمانوں کے ایندھن میں
مگر کس کے نصیبوں میں لکھی ہے کھیرِ آزادی

معیشت پھنس گئی افلاس کے منحوس چکر میں
ظفر تبخیرِ معدہ ہو گئی تطہیر آزادی

Advertisements