نالہء شبگیر کی تاثیر پاکستان ہے
کتنی صدیوں بعد اِک تنویر پاکستان ہے

پیار کرنے والوں کا اِک دیس ہے میرا وطن
مہرباں ہاتھوں کی اِک زنجیر پاکستان ہے

میری ہر اُمید کی تمہید اس کے نام سے
میرے ہر اِک خواب کی تعبیر پاکستان ہے

میرا ماضی، حال، مستقبل، سبھی کچھ ہے یہی
میری ساری عمر کی جاگیر پاکستان ہے

کوئی بھی خطہ کہاں آغوشِ مادر کی طرح
میں جہاں جاﺅں مری تقدیر پاکستان ہے

دل ہے پاکستان میں تو تم ہو پاکستان میں
نقشہء عالم کی ہر تصویر پاکستان ہے

تم اگر دنیا میں اس کی آبرو بن کر رہو
تو جہاں میں باعثِ توقیر پاکستان ہے

نظرئیے کا نام ہے یہ، قطعہء ارضی نہیں
جس جگہ ہو نعرہء تکبیر پاکستان ہے

کلمہ گو لوگوں کو مل جائے کوئی جائے اماں
بس یہی اِک حسرتِ تعمیر پاکستان ہے

دیوِ استبداد کے پنجے میں ہے یوں تو پری
دِل سے دیکھا جائے تو کشمیر پاکستان ہے

خندقِ اوّل ہے دہشت گردیوں کے سامنے
امنِ عالم کی نئی تفسیر پاکستان ہے

اِس لئے بھی رُک گئی ہیں ظالموں کی یورشیں
ایک لہراتی ہوئی شمشیر پاکستان ہے

صفحہء عالم سے اس کو کیا مٹائے گا عدو
خون سے لکھی ہوئی تحریر پاکستان ہے

Advertisements