بعد از شادی خلا کوئی کہاں پیدا ہوا
عشق کے ٹھرکی کو حُسنِ دیگراں پیدا ہوا

جانے سجدوں کا ثمر ہے یا کسی سینڈل سے ہے
صورتِ تمغہ جو ماتھے پر نشاں پیدا ہوا

دوستی تو اِس قدر ہم میں کبھی پنپی نہیں
فاصلہ جِتنا ہمارے درمیاں پیدا ہوا

جب سے میں لبرل بنا ہوں، اِس پہ ہوں چیں بہ جبیں
کیوں زمیں نیچے یا اُوپر آسماں پیدا ہوا

رِینکتی آئی ہے نسلِ خر ہزاروں سال سے
تب کہیں جا کر کوئی لیڈر یہاں پیدا ہوا

جان لیجے کہ اُنہیں ہے آپ سے مطلب کوئی
حُسن والوں میں جہاں حُسنِ بیاں پیدا ہوا

بھوک لگتی ہے جو بچے کو تو تپ جاتا ہوں میں
کیوں کسی شاعر کے گھر میں بے ایماں پیدا ہوا

وہ بضد تھے ریلیوں، دھرنوں سے کچھ ہونا نہیں
اب لگی ہے آگ تو کیا کیا دُھواں پیدا ہوا

کیوں نہ ہر شامت مری گردن کو ناپے آن کر
بی جمالو جیسا کوئی رازداں پیدا ہوا

شکر ہے کہ نظم میں تجریدیت سوجھی اُسے
کوئی تو مریخیوں کا ہم زباں پیدا ہوا

کیا جنوں بھوتوں کو دینا ہے کرائے پر ظفر
جب مکیں لندن میں ہیں تو کیوں مکاں پیدا ہوا

Advertisements