آپ کیوں اُن کی محبت میں مرے جاتے ہیں
جو سدا آپ سے ہو ہو کے پرے جاتے ہیں

نامرادی کا بھی ٹھینگا ہے اُنہیں کے بھاگوں
جو ترے باپ کے غصے سے ڈرے جاتے ہیں

گرمئی عشق کے ہیٹر ہی سہی دیوانے
آپ کی سرد مزاجی سے ٹھرے جاتے ہیں

میسنے ہیں جو ابھی بھی ہیں تجھے چِپکے ہوئے
جس قدر تھے تیری محفل سے کھرے جاتے ہیں

جامِ دیدار میں وہ سوڈا ملاتے ہیں ابھی
آپ بیکار خفا ہو کے "ارے” جاتے ہیں

چور ڈاکو تو گزرجاتے ہیں آسانی سے
آپ ہم جیسے ہی ناکے پہ دھرے جاتے ہیں

وہ جو لوٹے ہیں سیاست کے ہر اک موسم میں
لے کے تقدیر کے کھلیان ہرے جاتے ہیں

شیخ جی دم نہیں لیتے ہیں چھری کے نیچے
گھر کر ہر سال کے ماڈل سے بھرے جاتے ہیں

جیت سکتے تھے سہولت سے مگر کیا کیجے
کچھ کھلاڑی بڑی محنت سے ہرے جاتے ہیں

اُن کو لڑتے ہیں چمونے تو مرے ٹھینگے سے
ہم نے جو بات بھی کرنی ہے کرے جاتے ہیں

کچھ تو اوزان و قوافی کی بھی شُد بُد ہو ظفر
شاعری ہے کوئی چارہ کہ چرے جاتے ہیں

Advertisements