اور کیا خادمِ جمہور کئے جاتے ہیں
پرورش توند کی بھرپور کئے جاتے ہیں

کام کرتے نہیں دنیا کو مگر لگتا ہے
"کام دنیا کے بدستور کئے جاتے ہیں”

کسی چرسی نے لگایا تھا جو سرمستی میں
کیوں اُسے نعرہء منصور کئے جاتے ہیں

کوچہ ء یار میں جاتے ہیں بھری بارش میں
وہ جو کرتے رہے لنگور ، کئے جاتے ہیں

نازِ محبوب نہ آیا کبھی ڈھونا ہم کو
کس طرح عشق کے مزدور کئے جاتے ہیں

جس کو دستور کے ہجے بھی نہ آتے ہوں گے
اُن کے فرمان کو دستور کئے جاتے ہیں

ظاہراً قائلِ آزادیء اظہار بھی ہیں
سائبر بل بھی وہ منظور کئے جاتے ہیں

روز کرتے ہیں شئر سیلفیء خچر ناداں
خود کو اپنے تئیں مشہور کئے جاتے ہیں

فائدہ شک کا ہے میک اپ کی وجہ سے اُن کو
بھوتنی کو وہ اگر حور کئے جاتے ہیں

تلخیء غم کو حسینوں کے حوالے کر کے
آپ کی یاد کو امچور کئے جاتے ہیں

جن کو دل میں نے دیا اپنا بلا کنڈیشن
وہی ٹھینگا مرا مقدور کئے جاتے ہیں

اُن کی گردن میں ہے سریا تو ہے اِس کی بھی وجہ
ہم سے عاجز اُنہیں مغرور کئے جاتے ہیں

از سرِ نو ہمیں تفہیم کی حاجت ہے ظفر
صنفِ ایکسپوز کو مستور کئے جاتے ہیں

Advertisements