وہی مچھروں کی خونخواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے
“وہی راتوں کی بیداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے”

تُوہم اندھوں میں کانا ہے چنانچہ ختم کیسے ہو
تری ہم سب پہ سرداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

وہ جب غصے میں آتی ہے تو ”نیٹو“ بنتی جاتی ہے
مرے خطے پہ بمباری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

وہ کیسے لے گیا مجھ سے چُرا کرمجھ کو ، کیا جانے؟
مقفل دل کی الماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

اِسی انگنائی میں پچھلے برس بھی میں نے دیکھا تھا
وہ عورت پاﺅں کی بھاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

مرے پے ڈے پہ بیگم کے وہی انداز ہیں اب بھی
مرے صدقے مرے واری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

اگرچہ ماڈرن ہوں میں مگر قیدی نہیں ہرگز
مری پتلون شلواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

وہ جن کی بے وفائی نے ہمیں بیمار کر ڈالا
مسلسل اُن کی غمخواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

نہ پنشن یافتہ ہو کر بھی چھوٹی کاہلی مجھ سے
وہی روٹین سرکاری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

کہاں چھوٹا سرِ سسرال چوہے کی طرح رہنا
اگرچہ مونچھ تلواری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

عوام الناس ہیں جیسے ملے ہیں حکمراں ویسے
یہ شوبازی یہ شو ماری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

ہر اِک دھوکہ دہی کو ہم ”دہی“ کی طرح لیتے ہیں
ظفر اپنی وضعداری جو آگے تھی سو اب بھی ہے

Advertisements