ہو کے تائب جام کے شوقین میٹھی عید پر
پی رہے ہیں تیل سویا بین میٹھی عید پر

تاش کی بازی وہ پھر سے کھیلنے کو آ گئے
کر کے ابا جان کی تدفین میٹھی عید پر

یوں تو کہنے کو نیا ہے اور مہنگا بھی بہت
گو لبادہ ہے "دریدہ جین” میٹھی عید پر

رشتہ داروں سے بھلا بچ کر کوئی جائے کہاں
عید ملنے آ گئے وہ چین میٹھی عید پر

ساری ہی تنخواہ میاں کی صرفِ میک اَپ ہو گئی
مطمئن پھر بھی نہیں نسرین میٹھی عید پر

کیسے ممکن ہے کہ دو شاعر ملیں اور ہو نہیں
شاعری نہ داد نہ تحسین میٹھی عید پر

اِس قدر بھڑکیلے کپڑوں میں ہیں کُڑیاں ہائے ہائے
میرے گھر اُترے مہ و پروین میٹھی عید پر

ہر کوئی میک اپ کے ڈھاٹے کو پسند کرنے لگا
کوئی تو ملتا ہمیں خودبین میٹھی عید پر

مجھ کو اپنے پیار کی عیدی اگر دینی نہیں
جلوہ فرما کیوں ہے پھر نوشین میٹھی عید پر

پھر فدا ہونے لگا کافر حسینوں پر ظفر
پھر گیا پھر سے دلِ بے دین میٹھی عید پر

Advertisements