ہر لفظ میں چمکتے بے انتہا دیے ہیں
نعتِ نبی میں ہم نے جو بھی سجا دئے ہیں

دل کے قلم میں بھر کر اشکوں کی روشنائی
نعتِ بنی کی صورت تارے جگا دیے ہیں

یہ معجزہء ذکرِ سرکار ہے کہ جس میں
نطق و بیاں سراپا خوشبو بنا دیے ہیں

کیا فکرِ مصطفٰی ہے، جیون کا معجزہ ہے
”جس راہ چل دئے ہیں کوچے بسا دئے ہیں

ہم تھے سگِ زمانہ اب اور ہے فسانہ
حبِ نبی نے گویا قیدی چھڑا دئے ہیں

انسانیت کی منزل مقصودِ ہر زماں کی
اثبات کے سفر کو لنگر اُٹھا دئے ہیں

بے داغ زندگانی اک فصلِ جاودانی
حُسنِ عمل کے سارے جوہر دکھا دیے ہیں

پہنچیں نہ منزلوں پر تو پھر قصور کس کا؟
میرے نبی نے سارے رستے دکھا دئے ہیں

Advertisements