جب تک رہا ہے زندہ ہمہ زندگی تھا وہ
اِک پیکرِ درخشاں سرِ تیرگی تھا وہ

شائد اِسی لئے بس وہی وہ دکھائی دے
چھوٹے سے ملک میں اِک بڑا آدمی تھا وہ

تا عمر وقفِ خدمتِ انسانیت رہا
مصروفِ خیر تا بہ دمِ آخری تھا وہ

اُس کی نظیر اپنے زمانے میں تھی کہاں
اَس عہدِ بے چراغ میں نقشِ جلی تھا وہ

اُس نے کبھی کسی کو بھی مایوس نہ کیا
تا عمر ہم نے دیکھا اُسے کہ وہی تھا وہ

اِس سنتِ رسول پہ قائم رہا سدا
سب بے سہاروں کے لئے چھاؤں گھنی تھا وہ

کشکول اک صدی کا لبالب بھرا گیا
خدمات کی خیرات میں کتنا سخی تھا وہ

تاحشر اُس کے ذکر کا پرچم کشا رہے
دستِ قضا نے جس کو چھوا سرمدی تھا وہ

Advertisements