بند ہر راستہ نہیں ہوتا
ہر سفر دائرہ نہیں ہوتا

یوں تو ترکِ وفا نہیں دشوار
بس ہمیں حوصلہ نہیں ہوتا

دل کے رشتوں کو ٹوٹنے مت دو
فاصلہ فاصلہ نہیں ہوتا

جو میسر ہو انبساط کے بعد
درد بے ذائقہ نہیں ہوتا

غیر کی سمت دیکھنے والے
اپنا سایہ بُرا نہیں ہوتا

یہ اُترتا نہیں ہے وقت کے ساتھ
عشق کوئی نشہ نہیں ہوتا

لاکھ بہروپ بھر کے آئے جھوٹ
روکشِ آئینہ نہیں ہوتا

خوش گمانی ہو تیرے باب میں کیا
اب کوئی معجزہ نہیں ہوتا

جانتا ہوں غمِ حیات کو میں
حاصلِ قہقہہ نہیں ہوتا

Advertisements