آرزوئے عقدِ ثانی اور ہے
اک بلائے ناگہانی اور ہے

ہر کوئی تو گل کھلا پاتا نہیں
قیس صاحب کی جوانی اور ہے

کھل گیا ہے اب تو تیرا کنگلا پن
اب ترے جانی کا جانی اور ہے

ہم تو ہیں حقداروصلِ یار کے
پر عدو کی آنی جانی اور ہے

ہم بھی شامل ہیں عوام الناس میں
پر ہماری لیڈرانی اور ہے

سر کی پٹی کا وقوعہ ہے دگر
تیری فرقت کی نشانی اور ہے

چوہدراہٹ گھر میں بھی جھاڑو کبھی
دوستوں میں پھنے خانی اور ہے

چانس مل جائے گا ہم کو بھی کبھی
"کوئی دن گر زندگانی اور ہے”

کھا رہی ہے میری گھر والی اچار
تیر اک زیرِ کمانی اور ہے

کہہ گئے رانجھے میاں بھی الحذر
اور ہم کو سرگرانی اور ہے

ہوگیا میری زنانی کو شبہ
اک زنانی تائیوانی اور ہے

مِنمِناتے لہجے سے دھوکہ نہ کھا
میرے اندر اک کیانی اور ہے

Advertisements