ہو جائے جو دھندہ ترا مندہ میرے چندا
آئے گا نظر کب ترا چندا میرے چندا

ٹائی نے دبوچا ہے برابر مجھے دن بھر
گردن میں ہے تہذیب کا پھندہ میرے چندا

باتیں ہیں تری کڑوے کریلے سی کسیلی
کیوں تیرا پسندیدہ پسندہ میرے چندا

میں لوڈ کرا پاؤں گا کیسے تجھے پیسے
مانگا جو کبھی حُسن کا چندہ میرے چندا

پورا ہو سیاست میں اگر شوقِ تجارت
خدمت بھی منافعے کا ہے دھندہ میرے چندا

حق بات پہ بھی ضد نہیں ہوتی کبھی اچھی
کر دے نہ کہیں تجھ کو یہ گندا میرے چندا

موقع نہیں ملتا ہے اگر موقع ملے تو
اب کون نہیں حرص کا بندہ میرے چندا

کیوں چپس بنانے پہ تُلے ہو مرے دل کو
جس دل میں ترا نام ہے کندہ میرے چندا

اشعار کا بولوں اُسے توبہ میری توبہ
کھیسے میں ہے ظالم کے پلندہ میرے چندا

Advertisements