جو عاشق ہیں عجب خناس اُن کے سر میں رہتے ہیں
یہ گھن چکر کچھ ایسے ہیں جو ہر چکر میں رہتے ہیں

وہ بیوی ہے سو بھنبھیری کی طرح پھرتی رہتی ہے
یہ شوہر ہیں چنانچہ یہ ہمیشہ گھر میں رہتے ہیں

مری بیوی تعارف یوں کراتی ہے مرا اکثر
اِنہیں ملئے، مرے شوہر ہیں جو دفتر میں رہتے ہیں

ہمارے دور میں تو یہ ولن کا جزوِ فطرت تھا
جو اوصافِ حمیدہ آج کے لیڈر میں رہتے ہیں

تمھاری تیوری سے بھی کہاں بدکا ہے یہ فدوی
تمھارے خواب اب بھی دیدہٗ احقر میں رہتے ہیں

جہنوں نے میٹرک میں ایڑیاں رگڑی ہیں برسوں تک
ترقی کر گئے ہیں آج کل انٹر میں رہتے ہیں

کبھی جو باس کے یخ بستہ کمرے سے نکلتے ہیں
ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے تھر میں رہتے ہیں

مزاجِ نصف بہتر صورتِ بھونچال ہے، پھر بھی
"ہمارا حوصلہ دیکھو، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں”

کسی انداز کی ترغیب سے حاصل نہیں ہوتے
ظفر اسباقِ اعلیٰ جو کسی چھتر میں رہتے ہیں

Advertisements