بن کے مہمان جو مرے گھر تھا
کوئی ٹبر تھا یا وہ لشکر تھا

ہمیں سسرال سے نہ آگے گئے
ورنہ ہر جا جہان دیگر تھا

بہرِ لیڈر لگا ہوا تھا روٹ
جیسے نفرِ دگر تو شودر تھا

منکشف کر گیا ہے سی ٹی سکین
اُس کے سینے میں ایک پتھر تھا

ڈوز دیتے ہیں پیار کی اُس کو
اور اُس کا علاج چھتر تھا

کب رقیبوں پہ وہ کبھی بھونکا
اُس کے کتے کا زور ہم پر تھا

اپنے ناصح کو اب میں سمجھا ہوں
اُس ستمگر کا تجھ سے چکر تھا

بلوہ افروز تھی زباں جس کی
ٹاک شو کا کوئی مچھندر تھا

کاسہ لیسی میں تھا جو پی ایچ ڈی
بس مقدر کا وہ سکندر تھا

Advertisements