جو غدر گھر میں آج ہوتا ہے
تحفہء ازدواج ہوتا ہے

بزمِ جاناں میں کیا قصور مرا
تاڑنا تو رواج ہوتا ہے

بات بننے لگے جہاں دل کی
وہاں ظالم سماج ہوتا ہے

وہ دلیلوں کو خاک سمجھیں گے
جن کا چھتر علاج ہوتا ہے

جب بھی مدبھیڑ ہو رقیبوں سے
عاشقوں کا مساج ہوتا ہے

ذکرِ حالاتِ حاضرہ سے بھی
قلب میں اختلاج ہوتا ہے

میں بھی ماں کے لئے ہوں شہزادہ
ہیلمٹ بھی تو تاج ہوتا ہے

وہ سماتے نہیں ہیں جامے میں
جن کے گھر میں اناج ہوتا ہے

عقد کے بھرّے میں نہیں آنا
حشر کیمو فلاج ہوتا ہے

شاعری سوجھتی ہے رہ رہ کے
جب بہت کام کاج ہوتا ہے

Advertisements