احتساب اس پہ کر کے دیکھا ہے
کیوں حسینوں پہ مر کے دیکھا ہے

میں "چول” ہوں تو پھر کسی نے کیوں
چلتے چلتے ٹھہر کے دیکھا ہے

کہیں سگ تھے کہیں تھے سگ نما
"ہر گلی سے گزر کے دیکھا ہے”

چشمِ آئینہ سے جسے دیکھا
اُس نے ہم کو بپھر کے دیکھا ہے

عاشقی کا بخار نہ اُترا
سرد مہری میں ٹھر کے دیکھا ہے

بن نہ پائے عوام کے لیڈر
کار سے بھی اُتر کے دیکھا ہے

جانے اُڑتا ہے کن ہواؤں میں
جس کو بے بال و پر کے دیکھا ہے

جب وہ باراں میں ملنے کو آیا
اُس کے چہرے کو ڈر کے دیکھا ہے

کیوں نہ بیگم ہوئی ہے سیر شکم
میرا بھیجہ بھی چر کے دیکھا ہے

ٹینٹوا ہی دبایا خوابوں کا
پیار جن سے بھی کر کے دیکھا ہے

آئینہ منہ چڑا رہا ہے ظفر
ہم نے کیسے سنور کے دیکھا ہے

Advertisements