پیار سے دُم بھی ہلاتے ہو غضب کرتے ہو
سینگ بھی ساتھ دکھاتے ہو غضب کرتے ہو

جس کے چہرے پہ ہے میک اپ کی کرشمہ سازی
تم اُسے چاند بتاتے ہو غضب کرتے ہو

روئی کانوں میں تو ٹھونسی تھی دکھا کر تم کو
پھر بھی تم شعر سناتے ہو غضب کرتے ہو

نیوز چینل میں سیاست پہ ہے ڈیبیٹ کوئی
یا بٹیروں کو لڑاتے ہو غضب کرتے ہو

خوابِ جمہوریت اور اپنے وطن میں وللہ
بے ہدف تیر چلاتے ہو غضب کرتے ہو

بات جو کہنے یا سننے کی نہیں ہے ہرگز
بات بے بات سناتے ہو غضب کرتے ہو

حُسن تو ایک طویلے کی بلا ہوتی ہے
آپ سر اپنے منڈھاتے ہو غضب کرتے ہو

چھینک بھی جیسے ہو گھمبیر سی دہشت گردی
میرے بچوں کو ڈراتے ہو غضب کرتے ہو

ہم تو کنسرٹ پہ آئے تھے تمھارے اور تم
ہنہنائے چلے جاتے ہو غضب کرتے ہو

آزمائش ہے سراسر میرے جبڑوں کی ظفر
تم تو جو کچھ بھی پکاتے ہو، غضب کرتے ہو

Advertisements