کچھ کر کے زمانے کو دکھائیں گے کسی دن
آنگن نہ ہوا ٹیڑھا تو ناچیں گے کسی دن

آ جائے گا یہ اونٹ بھی کہسار کے نیچے
عشاق مزا عقد کا چکھیں گے کسی دن

فی الحال تو چوروں نے اُنہیں ڈال دی ہڈی
کتے میری انگنائی کے بھونکیں گے کسی دن

جو ہم پہ گزرتی ہے سرِ مقتلِ سسرال
"دنیا نے دیا وقت تو لکھیں گے کسی دن”

یہ کام فقط اُس کے تعاون سے ہے ممکن
دب جائے گا تو اُس کو دبائیں گے کسی دن

لپکیں گے جو بٹتے ہیں شب و روز بتاشے
ہم بھی تری انگنائی میں گھومیں گے کسی دن

جیسے وہ” تراہ” آج نکالے ہیں ہمارا
ویسے ہی رقیبوں کو بھی گھوریں گے کسی دن

سوجھا نہ علاج اور اگر ننگِ بدن کا
پرچم کو ہی تہبند بنائیں گے کسی دن

Advertisements