شورشِ آہنِ بیکار کہیں رہ جائے
خود وہ آ جائے مگر کار کہیں رہ جائے

جس کو پپا سے ملانا تھا کسی لڑکی نے
کچھ تو ہو گا وہ سمجھدار، کہیں رہ جائے

کیا خبر پہن کے کیا نکلیں پروفیسر جی
اُن کا کُرتا کہیں شلوار کہیں رہ جائے

سرِ راہے کسی کتے کو رقابت سوجھے
میں کہیں اور میرا دلدار کہیں رہ جائے

چھت پہ سوتا ہی رہے تیز ہواؤں میں کوئی
یوں کہ تہمدِ ہوادار کہیں رہ جائے

جیب میں یاد سے رکھ لینا نظر کی عینک
یوں نہ ہو حسرتِ دیدار کہیں رہ جائے

اس کے چنگل سے نکل بھاگے یہ میرا دل بھی
یہ ترا عشق یہ خرکار کہیں رہ جائے

گونجتا رہتا ہے ہر وقت محلے بھر میں
میاں بیوی کا یہ پندار کہیں رہ جائے

شوق لڑنے کا اگر یونہی رہا تو کیا عجب
کلغیء مرغِ طرحدار کہیں رہ جائے

حلوے مانڈے کا ہو امکان تو ممکن ہے ظفر
بھان متی کا پریوار کہیں رہ جائے

Advertisements