اِتنی گرمی میں سُنے جانے کے بھی قابل نہ تھا
یہ ترا شکوہ کہ فدوی گرمئی محفل نہ تھا

کیوں مری گاڑی کے نیچے آ کے مرتے ہو میاں
بہرِ مردن پاس کیا بجلی کا کوئی بِل نہ تھا؟

قیس کیا ڈاچی کی بھونڈی کے لئے جاتا وہاں
دشت بھی وہ جس میں بی لیلیٰ نہ تھی محمل نہ تھا

وہ تو مجبورِ محبت کر دیا اُس شوخ نے
ورنہ میں کارِ ذیاں کا تو کبھی قائل نہ تھا

تجھ پہ مرنا آ گیا تیرے فدائی کو مگر
زندگی کرنا بھی آتی اس قدر عاقل نہ تھا

تیری یادیں تھیں کہ جا لیتی تھیں اُس کو ہر جگہ
تیرے عاشق کو زمانے میں کہیں بھی چِل نہ تھا

شاعرِ عجلت نوا نے جھٹ قصیدہ لکھ دیا
گال پر محبوب کے مکھی تھی کوئی تِل نہ تھا

ہم سے یوں بے اعتنائی کس لئے برتی گئی
کیٹلاگِ عاشقاں میں نام کیوں شامل نہ تھا

اِک ذرا ہکلا بھی جاتی تھی زباں چلتی ہوئی
یوں تو وہ جھوٹا تھا لیکن لیڈرِ کامل نہ تھا

ہر کسی کی تیوری کب نعل تھی بندوق کی
یہ مرا سسرال پہلےکوچہء قاتل نہ تھا

لیلیٰ و مجنوں میں کیا سرخاب کے پر تھے لگے
تیرا میرا پیار کیونکر لائقِ گڈ وِل نہ تھا

ٹاک شو ایسا کوئی بھی خوش نہیں آیا کبھی
جس میں کوئی نو بہ نو ہنگامہء کِل کِل نہ تھا

اِس لئے میرے چھوہارے بٹ نہیں پائے ظفرؔ
تُو مری منزل تھا لیکن میں تری منزل نہ تھا

Advertisements