کمپوڈروں سے کارِ طبیبانہ چاہیئے
لیکن علاج اُن سے مسیحانہ چاہیئے

آنکھوں پہ کب تلک میںلگاﺅں گا کرفیو
اے دل تجھے بھی ہوش میں آ جانا چاہئیے

ہم پانچ مرلوں کے لئے کب سے ہیں رہن میں
اور اپنے مجنوں بھائی کو ویرانہ چاہیئے

ایسی ہی نسبتیں تو سدا کامیاب ہیں
اندھی دلہن کے واسطے اِک کانا چاہیئے

امیدوار تھا تو میں منت گزار تھا
پر اب پروٹوکول وزیرانہ چاہیئے

سچوں سے بڑھ کے کیوں نہیں پُر اعتماد ہم
کیوں جھوٹ بولتے ہوئے ہکلاانا چاہیئے

ویسے سخنوروں کے لئے لازمی نہیں
سب کو غمِ فراق میں ڈکرانا چاہیئے

اہلِ ہوس کے ہاتھ میں آیا ہوا ہے وہ
انصاف کو کچھ آپ بھی شرمانا چاہیئے

ناہید کا میاں ہے کسی ناز پر فدا
اور ناز کے خصم کو بھی فرزانہ چاہیئے

سب ہیں بیاض تھام کے گرمِ سخن ظفر
بزمِ سخن میں کچھ ہمیں ظفرانا چاہیئے

Advertisements