خصاب سے ہوا ممکن شکار میں رہنا
خزاں نصیب کا رنگِ بہار میں رہنا

جو لفٹ دیتے نہیں ہیں وہ منہ کو دھو رکھیں
ہمیں بھی آتا ہے اپنے مدار میں رہنا

لو پھر سما گیا اپنے چھوہاروں کا سودا
مرا نصیب نہیں ہے قرار میں رہنا

میں جیسے قبر میں اُترا ہوا ہوں مدت سے
کسی فلیٹ میں رہنا ہے غار میں رہنا

مری طرح سے اُسے بھی مزا چکھائے ذرا
مرے رقیب کا پنکی کے پیار میں رہنا

وصالِ یار کا امکان خواب میں بھی تو ہے
چنانچہ سوتے ہوئے بھی سنگھار میں رہنا

لڑائی سیکھنا اچھے سے نیوز چینل سے
سبھی سے گھر میں سدا تو تکار میں رہنا

نمٹ سکا ہوں نہ بیوی سے اور نہ بچوں سے
مرا تو گھر میں بھی رہنا کچھار میں رہنا

پڑھا نہیں ہے اگر علمِ مک مکا تو نے
نالائقوں کی طرح پھر قطار میں رہنا

مجاہدین کی تعدا جو بڑھانی ہے
تمام عمر ہی فکرِ اچار میں رہنا

غنودگی میں ظفر گنگنائے جانا غزل
محبتوں کے مسلسل بخار میں رہنا

Advertisements