فقیہہِ شہر سے جانے سوال ہو کب تک
کسی پہ چوری کا مرغا حلال ہو کب تک

طمانچے مارتے جاتے ہیں مقتدر ہم کو
نہ جانے قوم کا رخسار لال ہو کب تک

کچھ آپ بھی تو کریں کارِ حالی و اقبال
ہمیں کو فکرِ عروج و زوال ہو کب تک

تمھاری توند تو قابو سے ہو گئی باہر
ہمارا مرلہ بھی دیکھیں کنال ہو کب تک

تمھاری عمر سے بیوٹیشنیں بھی ہار گئیں
یونہی فضول میں فکرِ جمال ہو کب تک

تمھارے باپ کے تیور دکھاتے ہیں ٹھینگا
"بساطِ دل پہ محبت کی چال ہو کب تک”

جو تُو نہیں ہےتو پھر کوئی دوسری ہی سہی
تری جدائی کا آخر ملال ہو کب تک

اب اس میں بھی میرا لیڈر ہو خود کفیل ذرا
برائے ووٹ مرا استعمال ہو کب تک

جو ریسٹورینٹ سے چائے چڑھا کے آیا تھا
میں کیا بتاؤں کہ اُسکا خلال ہو کب تک

ہمارے یار کا مطلب نکل چکا ہے ظفر
مزید جانے وہ شیریں مقال ہو کب تک

Advertisements