اب ہم پہ اُس کے عشق کا الزام ہی تو ہے
پودِ رقیبِ روسیاہ کی مام ہی تو ہے
 
جیون نگل گیا ہے مرا از الف تا یے
کہنے کو تیری زلف کا اک لام ہی تو ہے
 
میں تجھ سے پیار کرتا نہیں ہوں، فلرٹ ہوں
اس کا مرے رقیب کو الہام ہی تو ہے
 
خلوت میں دُر فِٹے منہ ہمیں شوق سے کہو
لیکن یہ اہتمام سرِ عام ہی تو ہے
 
بہرِ وصال کوئی بلائے تو چل پڑو
عاشق کی ایک جست پہ کالام ہی تو ہے
 
زاہد اسے حرام سمجتا رہا ہے کیوں
یہ جو بریڈ کے ساتھ ہے یہ جام ہی تو ہے
 
عاشق کو چچا سام کی صورت نہ گھورئے
سروس میں ایک بندہء بے دام ہی تو ہے
 
ہر کوئی تاڑؤں کے قبیلے کا ہے کہاں
تیری گلی میں مجھ کو بھی اک کام ہی تو ہے
 
شاعر تمام کھسکے ہوئے ہیں ذرا ذرا
تیرا ظفر بھی یکے از اقسام ہی تو ہے
Advertisements