ہمارا عشق ہفتہ وار ہو ایسا نہیں ہوتا
برائے وصل اک اتوار ہو ایسا نہیں ہوتا

کسی لیڈر کی کم ظرفی کو ہرگز پا نہیں سکتا
کوئی کتنا بڑا خرکار ہو ایسا نہیں ہوتا

جسے میں ووٹ دیتا ہوں اُسے پھر کوستا بھی ہوں
نمائندہ مرا ہر بار ہو ایسا نہیں ہوتا

کوئی جو انگلیاں کانوں میں ٹھونسے تو یہ ٹل جائے
سخنور اس قدر خوددار ہو ایسا نہیں ہوتا

میں حالِ دل رقیبوں کو سنا دوں یہ تو ممکن ہے
ترا ابا مرا غمخوار ہو ایسا نہیں ہوتا

وہ حُسنِ لالہ گوں بس سے اُتر جائے سرِ راہے
مرا اسٹاپ گولیمار ہو ایسا نہیں ہوتا

جہاں رانجھے کی آمد پر میاں کیدو کی قدغن ہو
وہاں رانجھا ہی پہریدار ہو ایسا نہیں ہوتا

یہ مانا کہ وہ بابِ وصل میں ٹھینگا دکھاتے ہیں
مگر دعوت سے بھی انکار ہو ایسا نہیں ہوتا

ظفر اب حُسنِ تر آپے سے باہر ہو کے پھرتا ہے
کسی کو حسرتِ دیدار ہو ، ایسا نہیں ہوتا

Advertisements