یہی تو میری عبادت کا ہے قرینہ بھی
خیال میں ہے حرمِ پاک بھی مدینہ بھی

اُنہیں کا عشق ہے میری امارتوں کا امیں
اُنہیں کے نام تمناؤں کا دفینہ بھی

سحر مدینے میں ہو جائے تو کسے پروا
اُٹھا چکے ہیں کبھی سختیٴ شبینہ بھی

محبِ دیں پہ بھلا آزمائشیں کب تک
ڈبو کے آئے گا ذعمِ بھنور سفینہ بھی

کئی برس سے اِسی خواب کے حصار میں ہوں
سفر کا اذن بھی ہے ، حج کا ہے مہینہ بھی

اُنہیں کے ذکر سے سانسیں ہیں مشکبار ظفر
اُنہیں کے خواب نے بخشی ہے چشمِ بینا بھی

Advertisements