لیڈر نے جو دکھلائے ہیں یوں تو خواب سہانے ہیں
پر یہ حضرت چکر بازی میں استاد پرانے ہیں

جانے یہ خاتون کی حاجت ہے یا کوئی خاص ادا
آنکھوں پر ہے کالا چشمہ، ہاتھوں میں دستانے ہیں

اہنی توند پہ بات آئے تو اوروں کی کب سوجھتی ہے
"اپنی ذات سے عشق ہے سچا باقی سب افسانے ہیں”

یوں تو سب سمجھانے والوں نے ان کو سمجھایا ہے
لیکن بھوت ہیں جو لاتوں کے باتوں سے کب مانے ہیں

قیس کبھی کرتا تھا مزے صحراؤں میں پھرتا تھا کھُلا
دورِنو میں تو بیچارے کی تقدیر میں تھانے ہیں

لالہ جی کا طرزِ تکلم خود کش حملہ آور ہے
خاروں خار ہے لہجہ لیکن نام کے وہ” گل خانے“ ہیں

شانِ خدا کہ مردِ حُـر کہلاتے ہیں وہ شوہر بھی
جن کی گھر والی کے تیور یکسر خصماں کھانے ہیں

آپ دیانتداری کا تعویز بنا کر باندھ رکھیں
آج کی دنیا میں عزت کے وکھرے ہی پیمانے ہیں

بھینگی سوچ کے حامل ٹھہرے ٹاکنگ شو کے دانشور
جن کو اہلِ نظر کہتے ہیں کچھ اندھے کچھ کانے ہیں

خوباں کی گلیوں میں ان کو اِتنے دھکے پڑتے ہیں
دِل والوں کے لئے حوادث بھی اب کھنڈ مکھانے ہیں

Advertisements