دوحہ……وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا کہنا ہے کہ آج کا پاکستان تین سال پہلے کے پاکستان سےبہت بہتر ہے ،”اور اس بہتری کو ہمارے ذاتی اثاثوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بہتر سے بھی آگے کی کوئی شے لگے گی” یہ ہم نہیں کہتے لوگ کہتے ہیں،”اب اگر اِن لوگوں کا تعلق مسلم لیگ (نون) کے اعلیٰ عہدیداروں یعنی میاں خاندان کے قریبی رشتہ داروں سے ہے تو یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں” عالمی بینک کے صدر بھی پاکستانی معیشت میں بہتری کو سراہتے ہیں ،”اور وہ پاکستان کی معیشت کو یونہی نہیں سراہتے بلکہ اس سلسلے میں اکثر پاکستان تشریف لاتے رہتے ہیں تاکہ ترقی کے اُن ثمرات سے مستفید ہوا جا سکے جو پاکستان کے لوگوں کا مقدر بن گئے ہیں لیکن یہاں کی ناسمجھ اور جاہل عوام کو اس کی کیا خبر” امن و امان بھی بہتر ہے۔ "اس بہتری کے مظاہرے روزانہ خود کش دھماکوں اور وارداتوں کی شکل میں اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔”

وزیراعظم نواز شریف کا قطر میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ کراچی کے حالات پر وہاں کے لوگوں سے پوچھیں بہتری آئی ہے، "لیکن خدا کرے کہ اس بہتری کا رُخ پنجاب کی سمت نہ ہو جائے ورنہ لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں” آپریشن ضرب عضب کو بھی منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔”اگرچہ اس کام کو افواجِ پاکستان سرانجام دے رہی ہیں لیکن پھر بھی اس کے سہرے کے لئے یہ سر حاضر ہے، کیونکہ کسی اور سہرے کی اجازت تو گھر والی دینے سے رہی۔”

وزیراعظم نے کہا ہےکہ پی آئی اے ملازمین نے ہڑتال ختم کردی ہے اب انہیں کہا ہےکہ ادارے کی بہتری کے لیے کام کریں،” جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم نے اُنہیں ہڑتال پر مجبور کر کے ادارے کی بہتری کے مواقع فراہم کئے ہیں۔” قطر سے دوطرفہ تجارت کو ایک ہزار ملین ڈالرز تک لے جائیں کے ،”تین طرفہ تجارت یعنی بھارت کو بھی اس میں شامل کرنے کے لئے ہم نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے لیکن نریندر مودی کا کہنا ہے کہ "بن بھجن گائے تو مندر سے ٹکا ملتا نہیں” میں تو بھجن بھی گانے کو تیار ہوں لیکن پاکستانی عوام ہی ہمنوائی پر آمادہ نہیں” ایل این جی کی درآمد سے ملک کو سستی بجلی ملے گی، ہم نہ صرف بجلی کی قلت ختم کررہے ہیں بلکہ اس کی قیمت بھی کم کررہے ہیں ۔”اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو شہباز شریف کی جانب سے بیان جاری کر دیا جائے گا کہ اس کو "نواز شریف کی زورِخطابت سمجھا جائے۔”

اُنہوں نے کہاکہ گذشتہ حکومتوں نے بجلی کے معاملات پر توجہ دی ہوتی تو آج یہ بحران نہ ہوتا،”چنانچہ ہم نے آتے ہی اس پر توجہ دی ہے اور اس کے مثبت نتائج عظیم الشان لوڈ شیڈنگ کی صورت میں عوام الناس کے سامنے ہیں” آج معاشی اشاریے بہتری کی طرف ہیں اور اس کااعتراف ورلڈ بینک کے صدر نے بھی کیا ہے۔ "بعض بےسُرے لوگ مہنگائی کا راگ الاپتے رہتے ہیں، اُن جاہلوں کو کیا علم کہ ترقی کیا ہوتی ہے اور ورلڈ بینک کے صدر کا اعتراف کتنی اہمیت کا حامل ہے” وزیراعظم نے عزم ظاہر کیا کہ معیشت میں بہتری کے ساتھ امن و امان کی صورتحال بھی مزید بہتر ہوگی ۔ "اور اس کے لئے آپ کو میری حکومت کو مزید کئی دھائیوں تک برداشت کرنا پڑے گا کیونکہ اپنی مدد کے تحت ہم نے الیکشن کے نتائج کو اپنے حق میں کرنے کا خود ہی انتظام کر رکھا ہے چنانچہ اگر عوام صبرِ صمیم سے کام لیتے رہے تو انشاءاللہ حمزہ شہباز کے علاوہ حسن نواز بھی اپنا کاروبار چھوڑ کر پاکستان آ جائے گا اور مزید بہتر کاروبار یعنی سیاست پر اپنی جملہ توجہ مرتکز کر لے گا۔”

————–
نویدظفرکیانی
————–

Advertisements