ہوا چلی ہے تو اس کا چلنا سبھی نے دیکھا
سبھی پہ خمیازہ ڈالتی ہے
کسی کے روزن پہ دی ہے دستک
تو خواب جاگے ہیں کیسے کیسے
اِسی ہوا کا یہ رنگ بھی ہے
کہیں پہ ریگِ رواں اُڑا دی
تو اس کے نیچے دبے ہوئے راستے عیاں ہو گئے ہیں سارے
مسافروں نے نوید پائی ہے آگہی کی
کہیں پہ قحطِ نفس پڑا تھا
وہاں سے گزری
حیات کی اِک سبیل بن کر
کہیں پہ شمع جلی ہوئی تھی
وہاں پہ شبخون ماردی ہے
یہ ڈوبتی زندگی نے دیکھا
سبھی پہ خمیازہ ڈالتی ہے
ہوا چلی ہے تو اس کا چلنا سبھی نے دیکھا

Advertisements