دشمنِ قلب و جان لگتے ہیں
آپ تو طالبان لگتے ہیں

پاسِ ناموسِ عشق کے دعوے
کچھ سیاسی بیان لگتے ہیں

جھوٹ سے باندھتے ہیں ایسا سماں
سب کو معجز بیان لگتے ہیں

دھرنا دیتے ہیں ہیر کے در پر
رانجھے عمران خان لگتے ہیں

اِتنی سیکیورٹی کے حامل ہیں
مدرسے بھی مچان لگتے ہیں

نہیں تھکتے ہیں جن کو جاں کہتے
کیوں اُنہیں بھائی جان لگتے ہیں

اے ایم مروت کی تختی کے پیچھے
اپنے عبدالمنان لگتے ہیں

جن کو سچ بولنے کا چسکا ہے
کس قدر بدزبان لگتے ہیں

خون پیتے نہیں ڈریکولا
منہ میں ان کے تو پان لگتے ہیں

ناز فرماتے ہیں وہ جلوؤں پر
آئینے بے دھیان لگتے ہیں

نت نئے اسلحوں کے یہ میلے
بہرِ امن و امان لگتے ہیں

بیویوں کے لئے لگائے گئے
دائیں بائیں جو کان لگتے ہیں

Advertisements