اپنی بیگم کے بس میں رہتے ہیں
ازدواجی قفس میں رہتے ہیں

مجھ کو آگے لگائے رکھتے ہیں
جو مری دسترس میں رہتے ہیں

عاشقوں میں کمی نہیں ہوتی
یہ ہمیشہ پلس میں رہتے ہیں

لیڈروں جیسا زہر ہے کس میں
ڈنگ یوں تو مگس میں رہتے ہیں

ہوں گے مضبوط گھونسلے لیکن
گرنے والے کلس میں رہتے ہیں

عاشقی مین اگر مگر کیسی
کس لئے پیش و پس میں رہتے ہیں

کب ترے پیچ و تاب کو پہنچے
پیچ جو پیچ کس میں رہتے ہیں

ہیں تو لمڈھینگ سرو کی صورت
حالتِ خار و خس میں رہتے ہیں

شوقِ سگریٹ نہ پان کی عادت
ہم بس اپنے ہی چس میں رہتے ہیں

Advertisements