آ گئے جب سے اُڑانوں کے لئے دو چار پر
معترض ہونے لگے ہم وقت کی رفتار پر

اب تلک سچائیاں نامعتبر ہیں دوستو!
روشنی پھر سے نظر آنے لگی ہے دار پر

خود میں بارودی سرنگیں کیوں بچھا دیتے ہیں ہم
احتیاطِ قلب و جاں میں، ممکنہ یلغار پر

صورتِ رم جھم ہے ہم پر یادِ یارِ مہرباں
گر رہے ہیں برف کے گالے کسی کوہسار پر

زندگانی کا سفر کیسا سفر ہے ہائے ہائے
عمر بھر چلتے رہے ہیں خنجروں کی دھار پر

اپنے چہروں کو بنا لیں حاشیہ تاریخ کا
ثبت کرتے جائیں خود کو وقت کی دیوار پر

آسمانوں کا جگر بھی چیرتا ہو گا ظفر
قہقہہ بندوق کا مرغابیوں کی ڈار پر

Advertisements