جو لیلیٰ قیس کی ہمشیر ہوتی
تو کس کے عشق کی تشہیر ہوتی؟

اگر میں ووٹ بھی دیتا نہ ان کو
اِنہیں کی لیڈری تقدیر ہوتی

سمجھتے مجھ کو افسر اہلِ دفتر
پہنچنے میں اگر تاخیر ہوتی

یوں دعوت خوب کرتے مل ملا کے
ہماری دال اُن کی کھیر ہوتی

گرانی کے طمانچے پڑتے رہتے
تو خلقت باقیاتِ میر ہوتی

رقیبوں کا میں دامن چاک کرتا
مری دھوتی بھی لیروں لیر ہوتی

جو انجامِ محبت عقد ہوتا
وفا منت کشِ تفسیر ہوتی

اگر باہر مچھندر بن کے پھرتا
مری بیوی بھی داداگیر ہوتی

محبت رنگ جو لاتی کسی کی
"یقیناً پاؤں میں زنجیر ہوتی”

کٹاریں ہوتے جو ابرو تمھارے
ہماری مونچھ بھی شمشیر ہوتی

بناتا شوق سے رانجھا بھی سیلفی
جو پس منظر میں کوئی ہیر ہوتی

جہاں جاتیں ترے میک اپ پہ نظریں
وہیں پر حسرتِ تعمیر ہوتی

ظفر بنتا جوازِ زن مریدی
اگر بیوی کسی کی پیر ہوتی

Advertisements