حُسن کیسے ہو مسخّر سوچیں
کوئی منتر ، کوئی جنتر سوچیں

ناچ تگنی کا نچا دیتی ہیں
یوں گھما دیتی ہیں میٹر سوچیں

کیوں زمانے کا چلن ہے اُلٹا
شاخ سے اُلٹا لٹک کر سوچیں

کوئی انسان بنے کیوں لوٹا
کچھ سیاست کے مچھندر سوچیں

جب تصرف میں ہے دیوارِ سخن
تھاپئیے صورتِ گوبر سوچیں

کسی انگنائی میں گھُس جاتی ہیں
چن چڑھائیں گی نیا شر سوچیں

جس قدر شادی شدہ ہیں اب کے
صدر ممنون سے بن کر سوچیں

میں تو پنڈی میں کہیں اٹکا ہوں
اور جا پہنچیں پشاور سوچیں

جب زمیں پاؤں تلے کی کھسکے
قوم کے واسطے لیڈر سوچیں

اپنے بارے میں نہ سوچے انساں
تو کیا ان کے لئے ڈنگر سوچیں

آپا دھاپی کا زمانہ ہے ظفر
خود کو دیکھیں یا وہ مجھ پر سوچیں

Advertisements