سخن ہے آج بہت ناسپاس خوشبو کا
دہوئیں پہ ہونے لگا ہے قیاس خوشبو کا

گلاب سانس کے رستے اُتر گیا مجھ میں
ہوا نے پہنا ہوا تھا لباس خُوشبو کا

خزاں نصیبی چمن کی مشاہدے میں ہے
سمجھ میں کیوں نہیں آتا ہراس خوشبو کا

گئی رُتوں کے فسانے نظر نظر میں پڑھے
روش روش سے ملا اقتباس خُوشو کا

نفوذ ہو کے وہ یادوں میں آ گیا نہ ہو
گمان ہوتا رہا آس پاس خُوشبو کا

ظفر چمن کو ہے پت جھڑ سے بھی سوا یہ غم
میں تذکرہ نہیں کرتا اُداس خُوشبو کا

Advertisements