دھند میں کھوئی ڈگر کو دیکھئے
پھر کسی حکمِ سفر کو دیکھئے

باندھئے امید پھر سے باندھئے
پھر سے یارانِ سفر کو دیکھئے

اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں سستائیے
دھوپ میں جلتے شجر کو دیکھئے

برسرِ ساحل ہے سیلفی کی طرح
سیپ اور اس کے گہر کو دیکھئے

دُور اِتنا بھی نہیں ہے آسماں
حوصلہء بال و پر کو دیکھئے

حُسن بھی زندہ حقیقت ہے ظفر
پر مرے حُسنِ نظر کو دیکھئے

Advertisements