ہر ادا لیڈرِ من کی ہے تماشہ دیکھیں
سیدھا آئے گا نظر، ہو کے جو اُلٹا دیکھیں

کہیں مدبھیڑ جو ہو جائے ترے ویروں سے
وہ ستمگار مرا گوڈہ نہ گِٹا دیکھیں

دیکھنے پر کبھی آ جائیں جو مجنوں بھائی
کبھی سوہنی کبھی شیریں کبھی لیلیٰ دیکھیں

وعدہء وصل سمجھ بیٹھا ہے عاشق کیسے
حُسنِ کافر نے تو ارشاد کیا تھا، دیکھیں!

ٹائلیٹ کی ہے اگر شے تو یہیں پر ہوتی
کیوں اسمبلی میں نظر آتا ہے لوٹا دیکھیں

کیا خبر کاہے کو ہو جاتے ہیں گڈ مڈ باہم
آپ کو دیکھ کے جب صدقے کا بکرا دیکھیں

اِک گدھا جھانکتا آتا ہے نظر کھڑکی سے
یار کے سوزِ ترنم کا نتیجہ دیکھیں

ہمسفر ساتھ تو چلنے کو بہت چلتے ہیں
کب لگا جائے کہاں پر کوئی غوطہ دیکھیں

ماحضر یونہی مزیدار کہاں ہوتا ہے
بہرِ دعوت کسی ہمسائے کا مرغا دیکھیں

سارے خرگوش نہیں ہیں کہ قلانچیں ہی بھریں
دوڑ میں اپنی معیشت کا بھی کچھوا دیکھیں

اہلیت ہی نہیں رکھتا ہے وہ اس منصب کی
لیڈرِ قوم جو ہوتا نہیں بونگا دیکھیں

کیوں جھجھکتے ہو نظر مجھ کو لگا دینے سے
میری جانب بھی کبھی جانِ تمنا دیکھیں

اب تو شاعر بھی ہیں برسات کے کیڑوں کی طرح
شعر کہنے لگا ہر جمعہ گھسیٹا دیکھیں

Advertisements