میں تو پنڈی سے چلا آیا ہوں بھکر ہائے ہائے
تونے دیکھا نہیں غرفے میں بھی آ کر ہائے ہائے

جب شکر ملنے کے امکان نظر آتے ہیں
کیوں شکر خورے کو ہو جاتی ہے شوگر ہائے ہائے

کھا گیا نوچ کے لیڈر اسے کرگس کی طرح
گھومتا کیوں نہیں اس قوم کا میٹر ہائے ہائے

کس سہولت سے کہے جاتے ہیں لیڈر ہم تم
جن کو خر بھی نہیں کہہ پاتے برادر ہائے ہائے

کیا کہوں کیسا کھنڈر لگتی ہے بیگم مجھ کو
جب اکھڑ جاتا ہے چہرے کا پلستر ہائے ہائے

اپنے اعمال سے اپنی ہی ترقی کی ڈگر
ایسی بنجر ہے کہ جیسے یہ مرا سر ہائے ہائے

ہمنوا تیرے قیانے کے میں صدقے جاؤں
تجھ کو ہر گونگا نظر آتا ہے شوہر ہائے ہائے

کر کے آیا ہوں زمانے سے میں شاپنگ کیا کیا
کھول کر دیکھو کبھی ظرف کے شاپر ہائے ہائے

موم کی ناک سمجھتے ہیں وفا کو خوباں
ہم سے سمٹا نہ کبھی عشق کا دفتر ہائے ہائے

میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا تھا
مسکراتا تھا کوئی جان کے جوکر ہائے ہائے

صدر ممنون کی صورت ہیں ظفر صاحب بھی
لب نہ کھولیں تو بہت لگتے ہیں سوبر ہائے ہائے

Advertisements