کسی آہٹ نے دئے دل کو دلاسے کیا کیا
وا ہوئے جاتے ہیں آنکھوں کے دریچے کیا کیا

جانے کن خواب ہواؤں کے بھروسے پہ اُڑا
یوں کسی وہم نے پر بھی میرے باندھے کیا کیا

ہر نئے دور میں تحلیل بھی ہوتا رہا میں
یاد بھی آتے رہے مجھ کو زمانے کیا کیا

زخم در زخم نظر آئے اُنہی کے خنجر
اور دیتے رہے احباب دلاسے کیا کیا

ناخدا جانے کہاں راہ میں گم ہوتے گئے
لوگ چلتے ہی رہے اُن کے بھروسے کیا کیا

جو تماشائی بنے ہیں یہ وہی جانتے ہیں
ہر زمانے نے لگائے ہیں تماشے کیا کیا

پھر سے اک اور مسافت کا بلاوا آیا
سنگِ منزل پہ ملے مجھ کو اشارے کیا کیا

روشنی ایک مسافت کی ہوس لگتی ہے
شبِ تیرہ کو بُلاتے رہے تارے کیا کیا

Advertisements