کسی کو حالِ سخنور دکھانے والا نہیں
پکانے والی ہے گھر میں کمانے والا نہیں

وہ فاختہ جسے مودی نے پر لگائے ہوں
اُسے خلیل بھی ہرگز اُڑانے والا نہیں

تمام رات کسی سے گپیں لڑاتے ہو
کہیں ارادہ ترا شامیانے والا نہیں

میں اُس کے ڈھیٹ پنے کا ازل سے واقف ہوں
جو دل چراتا ہے نظریں چرانے والا نہیں

محلے والوں نے پھینٹی لگا دی مجنوں کی
کہ یہ مقدمہ کچہری یا تھانے والا نہیں

میں کس لئے تیرے ابے سے دب کے بات کروں
ہزار سانپ ہے لیکن خزانے والا نہیں

اب اپنے دل کو کوئی کس قدر کرے گا بڑا
وہ فِیل تن تو کہیں بھی سمانے والا نہیں

پولیس میں اُسے کیونکر لیا نہیں جاتا
اگر دماغ بھی اُس کا ٹھکانے والا نہیں

غبارِ شہر میں اٹ کر بنا ہوں بھوت ظفر
سو اب یہ چہرہ کسی کو دکھانے والا نہیں

Advertisements