غیر کو اپنا بناتے ہو، غضب کرتے ہو
اور پھر جان چھڑاتے ہو، غضب کرتے ہو

اِن سے گلقند بناتے تو افادہ ہوتا
پھول جوڑے میں سجاتے ہو، غضب کرتے ہو

اور ہر جنس میں حاصل ہو کفالت جیسے
میٹرو بس ہی اُگاتے ہو، غضب کرتے ہو

یاد رکھنا تھا تمھیں شیر کہا جاتا ہے
ڈھینچوں ڈھینچوں کئے جاتے ہو، غضب کرتے ہو

اپنے چہرے کی جو کالک ہے، اُسے بھی دیکھو!
آئینہ سب کو دکھاتے ہو، غضب کرتے ہو

کاٹ کھانے کے لئے ڈہونڈتے ہو موقع بھی
ساتھ میں دُم بھی ہلاتے ہو، غضب کرتے ہو

سر میں افکار کی خشکی ہے یا کلفت کی جوئیں
ہر سمے تم جو کھجاتے ہو، غضب کرتے ہو

زن مریدی کا بھی مل سکتا ہے طعنہ تم کو
ہاتھ بیوی کا بٹاتے ہو، غضب کرتے ہو

فرق کشکول میں اور توند میں کچھ تو رکھتے
اپنی بھد آپ اُڑاتے ہو، غضب کرتے ہو

اُس کو ہر لفظ کا مطلب بھی بتانا ہو گا
یہ غزل کس کو سناتے ہو، غضب کرتے ہو

Advertisements