بس اِتنی بات پہ امّاں کے روبرو تو ہے
کہا تھا میں نے تجھے میری آرزو تو ہے

میں مارکیٹ میں جاتا ہوں گھوم پھر کے بہت
لگا ہے جس کی وجہ سے یہ کرفیو تو ہے

ترا تو کام ہی جلتی پہ تیل ڈالنا ہے
ہمیشہ باعثِ ہنگامِ ہاؤ ہُؤ تو ہے

تری بہو بھی کہے گی تجھے "کڑک مرغی”
جو کل کو ساس بنے گی وہی بہو تو ہے

پلوں کے نیچے سے پانی گزر چکا خاصا
نہ میں وہ میں ہی رہا ہوں نہ ویسا تو تو ہے

اندھیرے میں ترے” پپا” سے ماجرائے دِل
میں کہہ گیا، یہ سمجھ کر کہ دوبدو تو ہے

"نہیں” کو "ہاں” میں بدلنا تجھے نہیں آیا
جو ہونے دیتا نہیں مجھ کو ون سے ٹُو تو ہے

گئی تھی اس میں جو میری ہی عمر کی۔ تو تھی
یہ پارلر سے جو نکلی ہے خوبرو، تو ہے

پچاسویں سے بھی بھولے نہیں یہ سچ کہنا
"خدا گواہ میری پہلی آرزو تو ہے”

اگرچہ ہر کوئی لاحول پڑھتا ہے تجھ پر
یہ اور بات کہ ہم سب کا اِک گرو تو ہے

تری ہوس ہے جو تجھ کو اڑنگی دیتی ہے
نہیں ہے اور کوئی بھی ترا عدو تو ہے

نہ چاپلوسی کی بو ہے نہ رنگِ زیبائش
یہی وجہ ہے کہ گلشن میں بے نمو تو ہے

 

 

Advertisements