کر کے نگاہیں چار او چشماٹو یار دیکھ
چشمہ اُتار دے تو مجھے چار چار دیکھ

مانا کہ اُس نے ٹھینگے پہ رکھا ہوا تو ہے
“تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ”

کیسے رواج پا گیا شہرؐنگار میں
پردہ اور ایسا جس میں سے سب آر پار دیکھ

مرحوم میرے ساتھ لنڈھاتے رہے ہیں جام
بنتا ہے آج جن کا بڑا سا مزار دیکھ

دولت کی چکاچوند میں کیوں کالکیں دکھیں
مجھ پر نظر نہ ڈال مرا کاروبار دیکھ

وہ جس کا ویر آیا ہے جِم سے ابھی ابھی
شامت صدائیں دے تو اُسے باربار دیکھ

ایسی زباں لفنگے بھی اب بولتے نہیں
جس میں مقننہ میں ہوئی تُو تکار دیکھ

یہ ہیر کا مکاں ہے یا کیدو کا آستاں
رانجھا لگا ہوا ہے کہاں چوکیدار دیکھ

اُس کو چڑھا دیا ہے رقیبوں نے بانس پر
چڑھتا ہے آج کل مجھے جس کا بخار دیکھ

Advertisements